نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت نے آج راجیہ سبھا میں آئین کی دفعہ 370 کو ہٹانے کا اعلان کیا۔یہ دفعہ جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دیتی ہے۔ حکومت کے اعلان کے مطابق جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اس میں جموں و کشمیر ایک مرکزکے زیر انتظام علاقہ ہوگا وہیں لداخ کو دوسرا مرکزکے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کہا کہ مرکزکے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں اسمبلی ہو گی لیکن لداخ میں اسمبلی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم سرحد پردہشت گردی کے مسلسل خطرے کو دیکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لداخ کے لوگ طویل عرصے سے اس مرکز کے زیر انتظام صوبہ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے اور یہ فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے لیا گیا ہے۔ایسے میں اب سوال اٹھتا ہے کہ دفعہ 370 ہٹنے سے جموں و کشمیر میں کیا کیا تبدیلیاں ہوں گی؟ یہاں پر ہم آپ کو دفعہ 370 کے لگے رہنے اور ہٹنے کی صورت میں آنے والے فرق کے بارے میں بتا رہے ہیں۔پہلے جموں وکشمیرکا اپنا الگ پرچم تھا۔وہاں کے شہریوں کی طرف سے ہندوستان کے قومی پرچم کا احترام کرنا لازمی نہیں تھا۔لیکن اب جموں کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہوگا اور ہندوستان کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بھی ترنگا ہی لہرایا جائے گا۔ اب وہاں کے لوگوں کو بھی قومی پرچم کا احترام کرنا ہوگا۔پہلے ووٹ کا حق صرف جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں کو تھا۔ملک کے دوسرے ریاستوں کے شہری کو وہاں کی ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرانے کا حق نہیں تھا۔ لیکن اب ملک کے دیگرریاستوں کے شہری بھی اب جموں و کشمیر اور لداخ کی ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرا سکتے ہیں اور ووٹ حاصل ہے۔دفعہ 370 ختم کئے جانے کے ساتھ ہی ووٹ کا حق صرف جموں و کشمیر کے مستقل شہریوں والا قانون ختم ہو گیا ہے۔اسی طرح جموں و کشمیر کے اسمبلی کی مدت چھ سال کی ہوتی تھی جبکہ ملک کے کسی بھی ریاست میں کسی بھی ریاستی حکومت کی مدت 5 سال سے زیادہ کی نہیں ہوتی ہے۔لیکن اب ملک کے کسی بھی ریاست کی طرح جموں و کشمیر میں بھی اب اسمبلی کی مدت 5 سال کی ہوگی۔ اسمبلی کے 6 سال کی مدت دفعہ 370 کے ختم ہوتے ہی ختم ہو جائے گا۔اسی طرح جموں و کشمیر کے شہریوں کے پاس دوہری شہریت (بھارت اور کشمیر) ہوتی تھی۔ الیکن اب جموں کشمیر کے لوگوں کے پاس صرف ایک ہندوستانی شہریت ہوگی۔ اسی طرح ہندوستان کے شہریوں کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔یعنی کہ دوسری ریاستوں کے لوگ جموں و کشمیر میں زمین نہیں خرید سکتے تھے۔لیکن اب دفعہ 370 کے ختم ہوتے ہی دوسری ریاستوں کے لوگ بھی جموں و کشمیر میں زمین خرید سکیں گے۔اسی طرح جموں و کشمیر کی کوئی خاتون اگر ہندوستان کے کسی دوسری ریاست کے شخص سے شادی کر لے تو اس خاتون کی شہریت ختم ہو جائے گی۔اس کے برعکس اگر وہ پاکستان کے کسی شخص سے شادی کر لے تو اسے بھی جموں و کشمیر کی شہریت مل جاتی تھی۔لیکن اب اب چونکہ 370 کو ہٹا دیا گیا تو دوہری شہریت بھی اپنے آپ ختم ہو گئی ہے۔اس حساب سے جموں و کشمیر کی خاتون کسی دیگرریاست کے شخص سے شادی کرتی ہے تو بھی وہ صرف ہندوستانی ہی کہلائے گی۔اسی طرح دفعہ 370 کی وجہ سے ہی کشمیر میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی ہندوستانی شہریت مل جاتی تھی۔ لیکن اب دفعہ 370 ہٹانے کے بعد اب کشمیر کے لوگ صرف ہندوستانی شہری ہیں۔اگر کوئی پاکستانی ہندوستانی شہریت لینا چاہتا ہے تو اسے پورے عمل سے گزرنا ضروری۔اسی طرح ہندوستان کے سپریم کورٹ کے حکم جموں و کشمیر کے اندر نافذ نہیں ہوتے تھے۔لیکن اب جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی سپریم کورٹ کے حکم نافذ ہوں گے۔